عصر ِ حاضر میں دعوت کے لیے نمونہ عمل حضرت یوسف علیہ السلام کے اسوہ کی روشنی میں
THE LIFE OF THE PROPHET YUSUF- PEACE BE UPON HIM- AS A MODEL METHOD OF PREACHING IN THE CONTEMPORARY PERIOD
Keywords:
The Qurā’n, Ḥaḍrat Yūsuf, Preaching MethodsAbstract
Preaching is an act that is obligatory for the Muslim ummah collectively. However, the fulfilment of this duty is a diverse and multi-faceted program. The methods of preaching vary according to the socio-cultural traditions of places and nations. Qurā’n guides us in this regard and provides us precedents that how to spread the message in diverse and different environment. This article focuses on the preaching method of the Prophet Yūsuf as a model in the light of Qurā’n. This model guides the preachers who face difficult situation and different environment. This model told us that even at the time of extreme difficulties one can succeed in spreading the message of Allah. This article describes that with faith and trust in God, the slavery turned to dominance. This paper also focuses on the principles derived from the methods of preaching of the Prophet Yūsuf as recorded in the Qurā’n. It also analyzes that how the above-mentioned methods of preaching can be fruitful in contemporary period.
Downloads
References
۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی کتاب "دعوتِ دین اور اس کا بنیادی طریقِ کار " میں داعی کے اوصاف اور مدعو کےواجبات کے حوالے سے مفصل گفتگو کی ہے۔ ان کی رائے میں دعوت دینے کے عمل میں محض کلمہءِ حق کی فطری صلاحیتوں پر ہی اعتماد نہیں کر لینا چاہیے بلکہ مدعویین کی ذہنی و نفسیاتی حالت کا لحاظ بھی ضروری ہے۔ مولانا نے مخاطب کی نفسیات کی رعایت کے لیے دس اصول بتائے ہیں جو انہوں نے انبیا کے طریقِ دعوت سے استنباط کر کے لکھے ہیں۔ (اصلاحی ، امین احسن ، مولانا، دعوتِ دین اور اس کا بنیادی طریقِ کار ، فاران فاؤنڈیشن لاہور۔
۔ دعوت کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ دعوت جس چیز کی طرف دی جانی چاہیے وہ محکم ہو ۔ عصرِ حاضر میں مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دعوت غیر اللہ کی طرف دی جارہی ہے یعنی ، ارباب من دون اللہ کی طرف ، فرقہ پرستی کی طرف ، شخصیت پرستی کی طرف تقلید آبا اور اپنی بنائی ہو ئی ترجیحات کی طرف دی جا رہی ہے جبکہ وعوت کا مرجع تو دین اسلام تھا۔ ایک جامع ضابطہ حیات کی طرف دعوت دی جا نی مقصود تھی دعوت سے معاشرے میں آفاقیت اور مساوات کو عام ہونا چاہیے تھا۔ دعوت کا مرجع کامل اطاعتِ الہی ہونا چاہیے تھا(فریدہ یوسف ، دعوت و تبلیغ ، فیصل فدا پرنٹنگ پریس،ملتان، 2013، ص: 15-21۔
۔ مولانا مودودی نے دعوت سے متعلق آیات کی تفسیر میں بھی فریضہ ءِ تبلیغ کی وضاحت کی ہے۔ اس کے علاوہ اپنی کتاب حکمت تبلیغ میں دعوت سے متعلقہ امور واضح کیے ہیں۔ (مودودی، ابو الاعلیٰ ، مولانا، تفہیم القرآن، ، ادارہ ترجمان القرآن ، لاہور، ص: 582
۔ دای کے اوصاف اور خصوصیات کے حوالے سے گزشتہ پچاس سال کے دعوتی ادب میں تقریبا ہر قابل ِ ذکر مصنف نے بات کی ہے ۔ ڈاکٹرعبد الکریم زیدان نے اصول الدعوہ کے نام سے اپنی کتاب میں ان امور پر راہنمائی فراہم کی ہے۔ اسی طرح مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا ابو الحسن علی ندوی اور دیگر مصنفین نے دای کے فرائض ، واجبات اور اوصاف پر گفتگو کی ہے۔ کئی مقالہ جات میں بھی برصغیر میں دعوت پر کیے جانے والے کام کا جائیزہ لیا گیا ہے جیسا کہ افکار ریسرچ جرنل کے ایک شمارے میں ایسا ہی ایک مضمون ہے جس میں برصغیر کی دس اردو دعوتی کتب کا جائزہ لیا گیا ہے۔ (Tauseef Ahmad Parray, “ Da᾽wah Literaure in Urdu: An Appraisal of some selected works of Prominent Figures of Sub-Continent “ , AFKAR: Research Journal of Islamic Studis.2,1 (June 2018): 17-36
اسی طرح حال ہی میں دعوتی ادب کا ایک جائزہ ایک اور ریسر پیپر میں لیا گیا ۔ جس میں مقالہ نگار نے جنوبی ایشیا میں دعوت پر لکھی جانے والی اہم کتب کا تعارف کرایا اور اس کا جائزہ پیش کیا۔
Owais Manzoor Dar,” Da‘wa in Islam:A Disursive Analysis of South Asian Muslim Scholarly Disourses” Analisa Journal of Social Science and Religion Vol. 06, No. 01, July 2021
تاہم برصغیر اور جنوبی ایسیا میں کیے جانے والا تحقیقی کام دعوت کے مختلف اسالیب ، حالات اور گوشوں کے حوالے سے متعلق ہے۔ زیر نظر مقالہ میں صرف ایک پہلو کو منتخب کیا گیا ہے جس میں غیر معروف فضا میں دعوت کا ایک نمونہ حضرت یوسف ؑ کے اسوہ کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔
۔ النحل،37:16
۔ اصلاحی ، دعوتِ دین اور اس کا بنیادی طریقِ کار ، فاران فاؤنڈیشن لاہور۔، ص: 152
۔ الفرقان، 33:25
۔ الانعام، 108:6
۔ فریدہ یوسف، دعوت و تبلیغ، فیصل فدا پرنٹنگ پریس،ملتان، 2013 ص: 259
۔ بخاری، ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل، امام، صحیح بخاری، کتاب التفسیر ، المجلد الثالث، ج6، ص 422،د ارالقلم بیروت لبنان
۔ القرآن، یوسف، 12: 4-5
۔ کتاب پیدائش، باب:37: 11
۔ القرآن، یوسف، 12: 8-18
۔ کتاب پیدائش، 37: 34
۔ القرآن، یوسف، 12: 19-22
۔ بیضاوی، ناصر الدین ، محمود، انوار التنزیل و اسرار التاویل، شرکۃ مکتبہ و مطبع مصطفیٰ البابی، الحلابی ، الجز الاول، ص490
۔ الطبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تاویل القرآن ، مؤسسۃ الرسالہ، 2000، ج؛ 15، ص ؛ 21
۔ اصلاحی ، امین احسن ، مولانا، تدبر قرآن، فاران فاؤنڈیشن لاہور، ج4، ص 202
۔ القرآن، یوسف، 12: 23-29
۔ سیوھاروی، حفظ الرحمٰن ، قصص القرآن، صدیقیہ دار الکتب ، ملتان ، 2003، ج: 1، ص : 186
۔ اصلاحی ، امین احسن ، مولانا، تدبر قرآن، فاران فاؤنڈیشن لاہور، ج:4، ص : 206
۔ القرآن، یوسف، 12: 30-34
۔ القرآن، یوسف، 12: 39
۔ القرآن، یوسف، 12: 38
۔ القرآن، یوسف، 12: 101
۔ القرآن، یوسف، 12: 40
۔ القرآن، یوسف، 12: 59
۔ القرآن، یوسف، 12: 23
۔ ندوی، ابو الحسن، علی، مولانا، تبلیغ و دعوت کا معجزانہ اسلوب، مجلس نشریات اسلام، ناظم آباد کراچی، ص58-59
۔ القرآن، یوسف، 12: 36-37
۔ القرآن، یوسف، 12: 21
۔ القرآن، یوسف، 12: 68
۔ اصلاحی ، امین احسن ، مولانا، تدبر قرآن، فاران فاؤنڈیشن لاہور، ج4، ص 241
۔ القرآن، یوسف، 12: 42
۔ القرآن، یوسف، 12: 55
۔ القرآن، یوسف، 12: 90
۔ طبری ، ابن جریر امام، جامع البیان عن تاویل آی ءِ القرآن، دارالفکر بیروت لبنان، حصہ اول، ص 401
۔ القرآن، یوسف، 12: 47-49
۔ القرآن، یوسف، 12: 50-56
۔ کتاب پیدائش، 41: 4
۔ تدبر قرآ ن، ج: 4، ص : 243-245
۔ القرآن، یوسف، 12: 96
۔ القرآن، یوسف، 12: 92
۔ القرآن، یوسف، 12: 98
۔ کتاب پیدائش، باب ، 20 : 45
۔ القرآن، یوسف، 12: 100
. The demographic factors that make Islam the world’s fastest-growing major religious group,
https://www.researchgate.net/publication.
Last accessed, 21-04-21
Downloads
Published
Issue
Section
License
Copyright (c) 2025 Dr. Faridah Yousaf, Dr. Nasim Akhtar (Author)

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.